کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کیلیے دو لڑکیوں کے اغواء کا معاملہ ، ملزم نے تحفظ کیلیے عدالت سے بھی رجوع کرلیا ، 14 سالہ مہک نے نکاح مانتے ہوئے ملزم وقار سے مرضی کی شادی کا بیان دیدیا، عدالت نے مہک کی جانب سے مرضی کی شادی کے بیان کے بعد اسکے شوہر کے خلاف اغواء کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا ، 12سالہ مہرین نے نکاح زبردستی قرار دیتے ہوئے وقار پر زیادتی کا الزام عائد کردیا ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے درخواست نمٹانے کی مخالفت کردی ، اگر ملزم کے خلاف نرم رویہ رکھا گیا تو خواتین کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی ہوگی، وقار کے خلاف اغوا،زیادتی اور چائلڈ میرج رسٹرین ایکٹ کے خلاف مقدمات درج ہونگے،
عدالت نے مہک کے اغواء کا مقدمہ نمٹاتے ہوئے مہرین کے اغواء و زیادتی کے الزام میں تفتیشی افسر کو چالان متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دیدی
6 فروری کو میر حمزہ نے شرافی گوٹھ تھانے میں دونوں لڑکیوں کے اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا
میری بیٹی مہک گھر سے باہر نکلی تو دیر تک گھر واپس نہیں لوٹی، مدعی میر حمزہ
بیٹی مہک کی تلاش کے دوران یہ پتہ لگا کہ 12سالہ مہریں ولد مکھن بھی لاپتہ ہے۔ مدعی
مہک اور وقار کی جانب سے ہائیکورٹ میں تحفظ کی درخواست دائر کی گئی تھی کہ انکے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے گئے ہیں
ان مقدمات میں گرفتاری کا اندیشہ ہے اور لڑکیوں کے رشتہ داروں کی جانب سے جان کا بھی خطرہ ہے
ملزم وقار ہے ، کم عمر لڑکیوں سے شادیاں کی ہیں، ایڈشنل ایڈوکیٹ جرنل سندھ
ایک لڑکی نے کہا ہے کہ مجھے اغواء کیا ہے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جرنل سندھ
ملزم وقار کے خلاف معاملی ٹرائل کورٹ میں جائے گا، ایڈشنل ایڈوکیٹ
ایک کا کیس نمٹا دیا گیا دوسرا ٹرائل کورٹ میں جائے ایڈشنل ایڈوکیٹ جرنل


