کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں پلاسٹک بیگزپر مکمل پابندی کے معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے ڈی جی سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی وقارحسین پھلپوٹو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے صرف “پلاسٹک شاپنگ بیگز” پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ یعنی وہ ناقابل تحلیل تھیلےجوروزمرہ خریداری کےلیےاستعمال ہوتے ہیں اور جنہیں استعمال کے فوراً بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ صنعتی حلقوں اور عوام میں پھیلائی گئی غلط فہمی کہ سندھ حکومت نےہرقسم کے پلاسٹک پر پابندی عائد کردی ہے درست نہیں۔ہر طرح کے پلاسٹک کیریئر اور شاپنگ بیگز پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ بریڈ بیگز،فوڈ پیکجنگ، فروزن فوڈ پیکنگ، کوڑا دان کے بیگز، شِرنک ریپ، پیلٹ ریپ، ببل ریپ، زرعی مقاصد کےلیےملچنگ فلمز،دودھ اور پانی کی پیکنگ، تین سال سے کم عرصہ کے لیے استعمال ہونے والی زرعی فلمز و نیٹنگ، بنے ہوئے پلاسٹک کے بیگز، بی او پی پی، سی پی پی اور میٹلائزڈ پلاسٹک فلمز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ڈی جی سیپا کا کہنا تھا کہ چند مفاد پرست عناصر پلاسٹک انڈسٹری سے وابستہ افراد کو گمراہ کر رہے ہیں حالانکہ حکومت سندھ نے صرف ماحولیاتی آلودگی اور کوڑے کرکٹ میں اضافہ کرنےوالےشاپنگ بیگز پر پابندی عائد کی ہے جو ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ آغا شاہنواز خان نے کہا ہے کہ ہماری پالیسی واضح ہے۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ پلاسٹک بیگز ماحول دشمن ہیں۔سندھ حکومت نے عوامی مفاد میں تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع متاثر کیے بغیر قانون پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ کاروباری طبقہ پریشان نہ ہو صرف ممنوعہ شاپنگ بیگز سے اجتناب کریں۔


