ایران کے تیل انفراسٹرکچر پر خطرے کا دعویٰ، عالمی توانائی بحران کا خدشہ

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران کے تیل کے نظام سے متعلق ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کا تیل کا انفراسٹرکچر آئندہ تین دنوں میں شدید دباؤ کے باعث متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو تیل کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے پائپ لائنز اور ذخیرہ گاہوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تیل کی ترسیل میں مشکلات
رپورٹ کے مطابق ایران کو سمندری راستوں کی بندش کے بعد تیل ذخیرہ کرنے کے لیے محدود گنجائش کا سامنا ہے، جس کے باعث پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو تیل کی پیداوار میں کمی یا مکمل بندش جیسے اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
عالمی اثرات
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جاری کشیدگی کے باعث پہلے ہی روزانہ لاکھوں بیرل تیل مارکیٹ سے غائب ہو چکا ہے، اور ایران کی پیداوار میں مزید کمی سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ممکنہ خطرہ
توانائی کے ماہرین کے مطابق ایران کے پاس ذخیرہ کرنے کی محدود گنجائش ہے، جو اسے چند ہفتوں تک ہی سہارا دے سکتی ہے، اس کے بعد ملک کو سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام اور ماہرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں