کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ،صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن نارکوٹیکس سندھ مکیش کمار چاولہ،آیڈیشنل انسپکٹرجنرل آف پولیس سندھ غلام نبی میمن صاحب صرف چند لمحات اورتھوڑی سی نظرکرم شہرقائد پربھی ہو-
شہر قائد کی یونیورسٹیوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، چائے کے ہوٹلوں، شیشہ بارزنما موت بارز، مساج پارلرز نما قحبہ خانے،کرائے کے فلیٹس میں قائم فحاشی کے سینکڑوں اڈے ۔ کرائے کے بنگلوں میں قائم VVIP گیسٹ ہاؤسز نما شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے مراکز اور ہوٹل آئی نما چکلیں اور مضافاتی علاقوں میں عرصہ دراز سے قائم منشیات کے اڈوں پر علاقہ پولیس اور ایکسائز پولیس کی ” موکل خاص ” کے عوض منشیات کی بلا خوف و خطر خرید و فروخت ہورہے ہیں-
محکمہ پولیس اور ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن نارکوٹیکس کے نازک مزاج ۔ مالدار با اثر سیاسی سفارشی ۔ راشی افسران پولیس بیٹروں کی وڈی مہربانی سے مالا مال ہورہے ہیں-
باوثوق زرائع اور مصدقہ اطلاعات اور عرق ریزی سے کیے گئے سروے کے مطابق کراچی میں بد نسلیں ۔ مردہ ضمیر ۔ درندہ صفت ۔ بدبخت عادی منشیات فروش شہر قائد کے 107 تھانوں کے علاقوں میں پولیس اور ایکسائز پولیس کی مکمل سرپرستی میں موکل خاص اور ہفتہ ایڈوانس نقد ادا کرنے کے بعد آئیس ۔ کوکین ویٹ ۔ کرسٹل ۔ چرس ۔ ہیروئین ۔ انگلش شرآب ۔ گٹکا ۔ ماوا ۔ مین پوری فروخت کر کے کراچی کے شریف النفس والدین کے جگر گوشوں کو نشہ کی لت میں مبتلا کر کے کروڑوں ۔ اربوں پتی بن چکیں ہیں ۔
جس کے تمام سرکاری ثبوت پولیس کی اسپیشل برانچ کے زیرک ۔ نڈر ۔ دلیر پولیس افسران کی عرق ریزی سے مرتب کردہ مصدقہ رپورٹس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں-
جبکہ پولیس کی اسپیشل کی مصدقہ رپورٹس میں بد نسلیں،مردہ ضمیر،درندہ صفت بدبخت منشیات فروشوں اور منشیات فروشوں کے بدکردار مردہ ضمیر سہولت کاروں ۔ خود ساختہ بد نسلیں علاقہ معززین کے گھروں کے مکمل پتے اور فون نمبرز بھی درج کیے گئے ہیں-
جبکہ گزشتہ تین سالوں میں پولیس کی اسپیشل برانچ کے بہادر پولیس افسران نے عادی منشیات فروشوں کی فوری گرفتاریوں کے لیے لاتعداد آئی آرز متعدد بار متعلقہ تھانہ جات کے SHO’s کو بذریعہ سرکاری ڈاک ارسال کر چکیں ہیں مگر حیرت انگیز طور پر پولیس کی اسپیشل برانچ کے بہادر پولیس افسران کی جارہی کردہ آئی آرز پر منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی بجائے فی آئی آرز 25 سے 30 ہزار روپے نقد رقم گن کر وصول کرنے کے بعد آئی آرز کو اپنی خود ساختہ رپورٹس کے ذریعے کلینر کر دیا جاتا ہے اور اپنی کارکردگی رپورٹ دیکھانے کے لیے عادی منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کی بجائے منشیات کا استعمال والوں کو منشیات کے اڈوں کے اندر سے سڑکوں گندے نالوں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور عادی منشیات فروشوں سے پولیس کے PSP افسران کی فٹیک کے نام پر تگڑی رقم وصول بھی کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں با اثر مالدار درندہ صفت ۔ مردہ ضمیر ۔ بدبخت منشیات فروش دھڑلے سے اپنا مکروہ دھندہ کر کے کراچی کی نوجوان نسل کو موت کے منہ میں دھکیل رہیں ہیں ۔۔


