**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — سیشن کورٹس میں صحافی بلال غوری کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے بلال غوری کے مزید **6 روزہ جسمانی ریمانڈ** کی استدعا کی گئی، جبکہ عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریکوری پہلے ہی ہو چکی ہے، تو مزید ریمانڈ کی ضرورت کیا ہے۔
وکیل نے عدالت سے مکالمے میں کہا کہ جب موبائل فون اور لیپ ٹاپ پہلے ہی قبضے میں لیے جا چکے ہیں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی تفتیشی ادارے کے پاس ہیں تو پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ بلال غوری کا بیان غلط کیسے ہے۔
عمران شفیق نے مزید کہا کہ اگر بیان کو غلط قرار دیا جا رہا ہے تو بلال غوری سے اس حوالے سے سوال ہی نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب بلال غوری نے عدالت کو بتایا کہ ان کے تمام اکاؤنٹس، موبائل فون اور لیپ ٹاپ تفتیشی ادارے کے پاس ہیں۔
تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ بلال غوری کے اکاؤنٹس پر **ٹو فیکٹر ویری فکیشن** فعال ہے، جس کے باعث اکاؤنٹس میں لاگ اِن ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
سماعت کے دوران بلال غوری نے ریمانڈ کے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، **”اب یہی بچا ہے کہ یہ میرے منہ سے زبان کھینچ لیں۔”**
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
### Human Angle
صحافیوں سے متعلق مقدمات میں شفاف تفتیش، آزادیٔ اظہار کے حق، قانونی معاونت اور منصفانہ عدالتی عمل کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاستی اداروں کو سائبر جرائم کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ملزم کے آئینی اور قانونی حقوق کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ صحافت اور عوامی آگاہی کے مشن پر کام کرتا ہے۔ HRNW کے اس noble mission کو جاری رکھنے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
### Disclaimer
یہ رپورٹ فراہم کردہ عدالتی کارروائی، وکلا کے دلائل اور تفتیشی حکام کے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت کے قانونی عمل کے بعد ہوگا۔


