18

پاک کالونی تھانے پر جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ کا چھاپہ، دو شہریوں کی بازیابی کی کوشش

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — پاک کالونی تھانے پر جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ کی جانب سے مبینہ طور پر چھاپہ مارا گیا، جہاں دو شہریوں **شامیر ولد زبیر** اور **نعمان بلوچ ولد شوکت علی** کی بازیابی کے لیے کارروائی کی گئی۔

وکیل **فرید بلوچ** کے مطابق، دونوں شہریوں کو آج صبح مبینہ طور پر پاک کالونی پولیس کی ٹیم، جس میں بلال اور سلمان بلوچ نامی اہلکار شامل تھے، اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ ان کی بازیابی کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ نے تھانے کا دورہ کیا۔

فرید بلوچ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے چھاپے سے قبل ہی دونوں شہریوں کو مبینہ طور پر کسی نامعلوم مقام پر منتقل یا چھپا دیا گیا، جس کے باعث ان کی برآمدگی عمل میں نہ آسکی۔

وکیل کے مطابق شامیر اور نعمان بلوچ کے اہل خانہ کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے **ایس ایچ او پاک کالونی اور متعلقہ پولیس ٹیم کو کل طلب کرلیا ہے۔**

فرید بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ چند روز قبل شامیر اور نعمان بلوچ نے **لیاقت بلوچ کی بازیابی** کے لیے احتجاج کیا تھا اور ان کے مطابق موجودہ مبینہ کارروائی اسی احتجاج کے تناظر میں کی گئی ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

## Human Angle

کسی بھی شہری کو حراست میں لینے یا اس کی آزادی محدود کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی، اہل خانہ کو بروقت معلومات کی فراہمی اور عدالتی نگرانی بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تحفظات کا اہم حصہ ہیں۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور تمام فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جاسکے۔

## HRNW Support Appeal

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ صحافت اور عوامی آگاہی کے مشن پر کام کرتا ہے۔ HRNW کے اس نیک مشن کی حمایت کریں:

**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ خبر وکیل فرید بلوچ کی جانب سے بیان کردہ معلومات اور الزامات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر کی تیاری تک نہیں ہوسکی۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔ کسی بھی فریق کو قانونی کارروائی مکمل ہونے سے قبل قصوروار قرار دینا مناسب نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں