**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** — لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکالنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کو بھی ہدایت کی ہے کہ افغان طلبہ کے خلاف کسی بھی اقدام سے قبل قانونی تقاضوں اور ان کے مؤقف کو مدنظر رکھا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ **”طلبہ کو نکالنے سے پہلے ایک بار تو ان کو سن لیتے۔“**
عدالت کے مطابق افغان طلبہ کی تعلیم اور مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں قانونی طریقہ کار اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق پی ایم ڈی سی کو موصول ہونے والی ہدایات کے بعد افغان طلبہ کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے میں طلبہ کو فوری طور پر میڈیکل کالجز سے نکالنے سے روک دیا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد پنجاب کے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال میں فی الحال ریلیف مل گیا ہے۔
## Human Angle
تعلیم ہر انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور طلبہ کو ان کی قومیت یا پس منظر کی بنیاد پر اچانک تعلیم سے محروم کرنا ان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے طلبہ کا مؤقف سننے اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے پر زور اس اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی انتظامی فیصلے میں انصاف، شفافیت اور بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں اہم معاملات اجاگر کرتا ہے۔ HRNW کے اس عظیم مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی اخلاقی اور مالی معاونت اہم ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم نوٹ / Disclaimer:**
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور عدالتی کارروائی سے متعلق دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی مقدمے کے حتمی فیصلے اور مزید قانونی پیش رفت کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔


