حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) 24 مئی 1998 کو گوادر سے کراچی کے لیے اڑان بھرنے والے پی آئی اے کے 35 مسافر سوار فوکر طیارے کو مسافر بن کر سوار ہونے والے ہائی جیکروں جن میں شاہ سوار، صابر اور شبیر بلوچ نے اسے اغوا کرلیا تھا
ہائی جیکرز کو گمراہ کرکے ایئرپورٹ حکام اور پولیس حکام کی انتہائی کامیاب منصوبہ بندی کے ذریعے حیدرآباد ائیرپورٹ پر اتارا گیا
اس آپریشن کی کمانڈ کرنے والوں میں اس وقت کے اے ایس پی موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور بھی شامل تھے جو ایس ڈی پی او پھُلیلی تعینات تھے اور طیارے میں داخل ہونے والے پہلے شخص تھے
طیارہ ہائی کیس میں نامزد تینوں مجرمان کو صدرِ پاکستان کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج عبدالغفور میمن کی عدالت نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھےاور ڈیتھ وارنٹس پر عمل درآمد 28 مئی 2015 کو حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں کیا گیا


