اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی پالیسیوں، ملک میں بدامنی، مہنگائی اور آئینی معاملات پر شدید تنقید کرتے ہوئے دھواں دھار خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ دو صوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم صرف “معرکہ حق” کے جشن مناتے رہیں گے اور عوام کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور عوام نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کے کئی ارکان اور کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جبکہ باجوڑ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلسل آپریشنز کے باوجود صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہی ہے۔
خطاب میں انہوں نے مہنگائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود تیل کی سب سے زیادہ قیمت پاکستان میں کیوں ہے، جبکہ دیگر ممالک میں ایسی صورتحال نہیں۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں اور معاشی فیصلوں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے آئینی ترامیم، پارلیمان کے کردار اور جمہوری عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اہم فیصلے ایوان کے بجائے دیگر جگہوں پر کیے جا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ملک میں تعلیمی، مذہبی اور آئینی اداروں سے متعلق پالیسیوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، جبکہ مدارس کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔
خطاب کے دوران ایوان میں سیاسی گرما گرمی بھی دیکھی گئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔


