کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور مالی خوردبرد کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق مچھلی کی آمد کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کے شواہد سامنے آنے کے بعد معاملے کی باقاعدہ جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ادارے نے فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کے دو اہم افسران کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔اینٹی کرپشن کی جانب سے جنرل منیجر کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں مارکیٹ منیجر ناصر خان اور مینٹیننس انچارج نادر خان کا مکمل سروس ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق مذکورہ افسران کےتقرر نامے، تعلیمی اسناد، ڈومیسائل اور سروس ریکارڈ بھی طلب کیے گئے ہیں تاکہ جامع تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں افسران پر مچھلی کی آمد کو کم ظاہر کرنے، ریکارڈ میں ردوبدل اور نیلامی کے عمل میں مبینہ جعلسازی کے سنگین الزامات ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔


