حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ حال ہی میں شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کو وقتی اقدام کے بجائے مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ ملک کو درپیش معاشی، توانائی، خوراکی اور ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر اور دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔
صدر چیمبر نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کو ارسال کردہ مراسلے میں نشاندہی کی کہ پاکستان کی معیشت کو وقتی اقدامات نہیں بلکہ ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل مالی خسارہ، درآمدات پر انحصار اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بدستور برقرار ہے، جبکہ توانائی کے غیر مؤثر استعمال سے بجلی کی طلب میں غیر ضروری اضافہ ہو رہا ہے۔
محمد سلیم میمن نے کہا کہ پاکستان کو گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق دنیا کے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملکی وسائل پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے ورلڈ بینک کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ساتھ ہی سماجی تقریبات میں خوراک کا ضیاع ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، حالانکہ ملک کے کئی حصوں میں خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔
صدر چیمبر نے واضح کیا کہ اگر کفایت شعاری کو مستقل بنیادوں پر نافذ نہ کیا گیا تو موجودہ اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری آسائشیں، پروٹوکول اور وسائل کے بے جا استعمال کو فوری طور پر محدود کیا جائے، کاروباری سرگرمیوں کو دن کے اوقات تک محدود کیا جائے تاکہ بجلی کی کھپت میں کمی آئے، بازار شام 7 سے 8 بجے کے درمیان بند کیے جائیں، جبکہ شادی ہالز، ہوٹلز اور ریستوران رات 10 سے 11 بجے تک اختتام پذیر ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی تقریبات میں ون ڈش پالیسی، محدود مہمانوں کی تعداد اور مقررہ اوقات کار کو قانون کے تحت نافذ کیا جائے تاکہ خوراک کے ضیاع کو روکا جا سکے اور بچ جانے والی خوراک کو ویلیو ایڈیشن، بائی پراڈکٹس اور برآمدات کے ذریعے فائدے میں بدلا جا سکے۔ اس کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کو مؤثر اور سہولت بخش بنانے، نجی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے، پیٹرول و ڈیزل کی کھپت گھٹانے اور آبادی میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
صدر چیمبر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پانی کے مؤثر استعمال، توانائی کی بچت اور شہری ماحول میں بہتری کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کفایت شعاری مہم کو مستقل قومی پالیسی بنانے کے لیے واضح قانونی فریم ورک، مؤثر نگرانی کا نظام اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں۔
آخر میں محمد سلیم میمن نے زور دیا کہ متعلقہ وزارتیں فوری طور پر پالیسی نوٹیفکیشن جاری کریں، سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور مؤثر مانیٹرنگ و باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام قائم کریں تاکہ پالیسی کے ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج سامنے آ سکیں۔


