حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد چیمبرآف اسمال ٹریڈرزاینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے حیدرآباد میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں،کھلے عام بلیک مارکیٹنگ اور ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی پر نہایت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری جاری کردہ نرخوں کےباوجود شہربھر میں ایل پی جی مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ فروخت کی جا رہی ہے اور بعض علاقوں میں اس کی قیمت 400 سے450روپےفی کلوتک پہنچ چکی ہے،جوعوام کے ساتھ کھلا استحصال ہے۔ سلیم میمن نے کہا کہ جب سرکاری قیمتیں واضح طور پر مقرر ہیں توضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیز کی جانب سے اس کھلی خلاف ورزی کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر میں بلیک مارکیٹنگ ایک منظم مافیا کے تحت جاری ہے جس کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آ رہا۔انہوں نےمزید کہا کہ حیدرآباد میں گیس کی مسلسل قلت،گیس کےسخت شیڈول،قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافےکےباعث گھریلو صارفین، تندور، چائے خانے، ہوٹلز اور دیگر چھوٹے کاروبار مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور بلیک مارکیٹنگ نے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں ایل پی جی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مقامی پیداوار اس کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ پر ضرور پڑتے ہیں، تاہم اس کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری اور اوور چارجنگ ہرگز قابلِ قبول نہیں۔صدر چیمبر سلیم میمن نے اس بات پر زور دیا کہ ایل پی جی کی فروخت اور تقسیم کو محفوظ اور منظم بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صرف لائسنس یافتہ ڈیلرز کو ایل پی جی فروخت کی اجازت دی جائے، سلنڈرز کی باقاعدہ ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن یقینی بنائی جائے، اور گنجان آبادی والے علاقوں میں غیر قانونی دکانوں کے قیام پر پابندی عائد کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں منظور شدہ ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کیے جائیں، قیمتوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے، اور عوام میں محفوظ استعمال کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔ ساتھ ہی ایک مؤثر 24 گھنٹے ایمرجنسی ریسپانس سسٹم بھی قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے وفاقی اداروں اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک کریں تاکہ ایل پی جی کی منصفانہ قیمت پر دستیابی، محفوظ فراہمی اور بلیک مارکیٹنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ نہ صرف کاروباری برادری بلکہ ہر عام شہری کے مفاد سے جڑا ہوا ہے اور اس پر فوری اور مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔


