حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآبادچیمبرآف اسمال ٹریڈرزاینڈاسمال انڈسٹریزکےصدرمحمد سلیم میمن ےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیرمعمولی اضافےپرگہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر نمایاں اضافہ کیے جانے کے بعد ملک میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوام اور تاجر برادری دونوں پر پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے فوراً بعد حیدرآباد شہر میں پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ شہری بڑی تعداد میں ایندھن حاصل کرنے کے لیے پیٹرول پمپس کا رخ کرتے رہے، جس کے باعث کئی مقامات پر طویل قطاریں لگ گئیں۔ بعض پمپس نے سپلائی برقرار رکھی جبکہ متعدد پمپس کو زیادہ رش اور فراہمی کے مسائل کے باعث عارضی طور پر فروخت روکنا پڑی،جس سےشہریوں کوشدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ سلیم میمن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر بڑا اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کےاخراجات میں اضافہ کرے گابلکہ اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش، روزمرہ استعمال کی اشیا اور صنعتی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوگا،جس سےمہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری پہلے ہی بڑھتی ہوئی بجلی، گیس اور دیگر اخراجات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے اور ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔انہوں نےعالمی صورتحال کاحوالہ دیتےہوئے کہا کہ دنیا اس وقت مختلف بین الاقوامی معاشی اور جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے گزر رہی ہے جن کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نوعیت کےبحرانوں کاسامنا پہلے بھی کر چکا ہے، خصوصاً کووڈ-19 کے دوران عالمی سپلائی چین میں خلل اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ملک کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنےکےلیےمؤثراورجامع منصوبہ بندی نہیں کی،جوپالیسی سازی میں ایک واضح خلا اور پیشگی تیاری کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ سلیم میمن نےضلعی انتظامیہ اورقانون نافذ کرنےوالےاداروں کی بروقت کارروائی کوسراہتےہوئے کہا کہ ان کی موجودگی اور مؤثر حکمت عملی کےباعث شہرمیں صورتحال قابومیں رہی اورکسی بھی ممکنہ امن وامان کی خرابی کوپیدا ہونےسےروکا جا سکا۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سےمطالبہ کیا کہ پیٹرول اورڈیزل کی بلا تعطل فراہمی کویقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام میں بے چینی اور ہڑبونگ کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اورمنافع خوری کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی پالیسی اورہنگامی منصوبہ بندی مرتب کرے تاکہ عالمی سطح پرپیدا ہونے والے بحرانوں کے اثرات سے ملکی معیشت اور عوام کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے۔ سلیم میمن نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں اور صرف اپنی ضرورت کے مطابق ہی پیٹرول حاصل کریں تاکہ شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے اور کسی قسم کی مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔


