اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) موبائل فون صارفین کے اربوں روپے مبینہ طور پر بلاجواز کٹوتیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے وکیل محمد یونس خان نول نے موبائل کمپنیوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو باضابطہ قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔
قانونی نوٹس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ملک میں کام کرنے والی تمام موبائل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) کو ارسال کیا گیا ہے۔
نوٹس کے متن کے مطابق موبائل کمپنیوں نے آٹو ایکٹیویٹڈ سروسز اور نام نہاد ویلیو ایڈڈ سروسز کے ذریعے صارفین کے اربوں روپے ہڑپ کیے۔ قانونی نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے خود موبائل بیلنس سے غیر قانونی کٹوتیوں اور ناقص سروسز کا اعتراف کیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے بیلنس سے کی جانے والی یہ غیر قانونی کٹوتیاں PECA ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔
قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صارفین سے لوٹی گئی تمام رقم سات (7) دن کے اندر واپس کی جائے، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں ایکٹیویٹ کی گئی تمام ویلیو ایڈڈ سروسز کا شفاف اور آزاد آڈٹ بھی کرایا جائے۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں صارفین کو رقم واپس نہ کی گئی تو ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی، موبائل کمپنیوں کے خلاف 30 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ بھی کیا جائے گا، جبکہ کٹوتیوں میں ملوث کمپنی انتظامیہ کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے بھی متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ملک بھر کے موبائل صارفین کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات ٹیلی کام انڈسٹری پر دور رس ہو سکتے ہیں۔


