اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)حکومت پاکستان نے ملک بھر کے چاروں صوبوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ یکم مارچ 2026 سے ہر ایس ایچ او اپنے علاقے میں گھر گھر جا کر شہریوں کے شناختی کارڈز (CNICs) کی تصدیق کرے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد جعلی شناختی کارڈز کی پیداوار اور استعمال کو روکنا اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا ہے۔ ہر ایس ایچ او کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تھانے کی حدود میں موجود تمام گھروں کی تفصیلی جانچ کرے اور کسی بھی مشتبہ یا جعلی شناختی کارڈ کی فوری رپورٹ اپنے اعلیٰ حکام کو کرے۔
مزید ہدایات کے مطابق:
جعلی شناختی کارڈ بنانے والے افراد اور سہولت کاروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
شناختی کارڈ کی جانچ کے دوران شہریوں کے دیگر دستاویزات بھی تصدیق کے لیے طلب کیے جا سکتے ہیں۔
ہر ایس ایچ او کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن برقرار رکھنی ہوگی تاکہ کارروائی مؤثر اور بروقت ہو۔
ہدایت دی گئی ہے کہ کارروائی کے بعد تفصیلی رپورٹ تھانے کی سطح سے صوبائی انتظامیہ کو پیش کی جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام ملکی سیکیورٹی، ووٹنگ سسٹم کی شفافیت اور قومی شناخت کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈز کی تصدیق میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
یہ پہل ملک بھر میں شناختی کارڈز کی درستگی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ یہ عمل شفاف، مؤثر اور ہر شہری کے لیے محفوظ ہو۔


