حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) سوشل ورکر پنہون غازی بروہی نے چیف سیکریٹری سندھ اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ایک اپیل پیش کرتے ہوئے حیدرآباد کے لوکل گورنمنٹ کے افسر عبدالجبار ٹگڑ کے خلاف سنگین الزامات کی نشاندہی کی ہے۔
الزامات کے مطابق عبدالجبار ٹگڑ، جو سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ضلع حیدرآباد اور موجودہ ایڈیشنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ہیں، پر مندرجہ ذیل امور میں مبینہ ملوث ہونے کا شبہ ہے:
سرکاری تنخواہ کے علاوہ کروڑوں روپے کی عیاشی
آمدن سے زائد جائیدادیں
غیر قانونی پروموشنز اور سروس رولز کی خلاف ورزی
کرپٹ افسران سے ملی بھگت
لوکل گورنمنٹ میں بیٹھ کر لاکھوں روپے کی مبینہ کرپشن
غیر شفاف فائلوں کی منظوری اور ناجائز فوائد
ذرائع کے مطابق یہ افسر پہلے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کا ملازم تھا، مگر غیر قانونی احکامات کے ذریعے متعدد اداروں میں تعینات رہا، جن میں پیارو شوگر ملز دادو، سرپلس پول، ضلعی حکومت اور اب لوکل گورنمنٹ شامل ہیں۔
سوشل ورکر پنہون غازی بروہی نے زور دیا کہ جب تک ایسے افسران بے حساب طاقت اور کرپشن کے ساتھ فرائض انجام دیں گے، عوام کو انصاف نہیں ملے گا، قومی خزانہ خطرے میں رہے گا اور سندھ میں گڈ گورننس محض نعرہ بن کر رہ جائے گی۔
ان کے مطالبات میں شامل ہیں:
عبدالجبار ٹگڑ کے خلاف فوری، شفاف اور غیرجانبدار انکوائری
تمام اثاثوں، بینک اکاؤنٹس اور آمدنی کے ذرائع کی مکمل جانچ
ذاتی موبائل فون ٹریسنگ اور ڈیٹا کی چھان بین
انکوائری کے دوران عہدے سے ہٹانا / معطلی
اصل محکمہ (ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ) میں واپسی
الزامات ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی
پیشہ ور سوشل ورکر کے مطابق 2014 سے 2025 تک سندھ کے لوکل گورنمنٹ میں 53 سے زائد بڑے افسران کرپٹ ثابت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عوام، صحافیوں، وکلاء اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں اور شفاف احتساب کا مطالبہ کریں۔


