پاکستان کی پڑوسی اور علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کے تازہ اعداد و شمار سامنے آگئے

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اور اس کے ہمسایہ و علاقائی ممالک کے درمیان تجارت کے تازہ سرکاری اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن کے مطابق بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کو تجارتی سرپلس حاصل ہوا جبکہ چند بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ خسارہ برقرار رہا۔

افغانستان کے ساتھ تجارت:

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برآمدات: 1 ارب 390 ملین ڈالر

درآمدات: 607 ملین ڈالر

کل تجارتی حجم: تقریباً 1 ارب 998 ملین ڈالر

پاکستان کو تجارتی سرپلس: 783 ملین ڈالر سے زائد

ایران کے ساتھ تجارت:

پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

درآمدات: 1 ارب 155 ملین ڈالر

برآمدات: نہ ہونے کے برابر

تجارتی خسارہ: 1 ارب 155 ملین ڈالر سے زائد

وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت:

پاکستان کو مجموعی طور پر سرپلس حاصل رہا۔

ازبکستان: برآمدات 79.5 ملین، درآمدات 26 ملین، سرپلس 53 ملین ڈالر

قازقستان: برآمدات 170 ملین، درآمدات 1.6 ملین، سرپلس 170 ملین ڈالر سے زائد

تاجکستان: برآمدات 14.6 ملین، درآمدات 0.5 ملین

کرغزستان: برآمدات 4.8 ملین، درآمدات 0.3 ملین

ترکمانستان: برآمدات 1.2 ملین، درآمدات 3.6 ملین، معمولی خسارہ

چین کے ساتھ تجارت:

چین کے ساتھ تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا۔

برآمدات: 2 ارب 375 ملین ڈالر

درآمدات: 17 ارب ڈالر سے زائد

تجارتی خسارہ: 14 ارب 626 ملین ڈالر

بھارت کے ساتھ تجارت:

برآمدات صفر

درآمدات 295 ملین ڈالر سے زائد

تجارتی خسارہ برقرار

بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت:

پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔

برآمدات: 785 ملین ڈالر

درآمدات: 52 ملین ڈالر

تجارتی سرپلس: 732 ملین ڈالر سے زائد

ماہرین کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی برآمدات پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہیں، تاہم چین، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں