لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) بھاٹی گیٹ کے افسوسناک واقعے پر وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے متاثرہ خاندان سے باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔ انہوں نے واقعے پر افسوس اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
گزشتہ روز داتا دربار کے مرکزی دروازے بھاٹی گیٹ کے قریب سعدیہ نامی خاتون اپنی 9 ماہ کی شیر خوار بچی کے ہمراہ کھلے مین ہول میں گر گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریسکیو رضاکاروں نے موقع پر کارروائی کی مگر واقعے کے کوئی شواہد نہیں ملے، جس پر انہوں نے اس خبر کو فیک نیوز قرار دیا تھا۔
بعد ازاں اہلِ خانہ کے شدید احتجاج پر وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد سعدیہ اور ان کی کمسن بچی کی لاشیں تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں، جس کے بعد واقعے کی تصدیق ہوئی۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنی، اور پوری حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان سے معافی مانگتی ہیں اور اس افسوسناک صورتحال پر ہم سب نادم ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


