لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کے شوہر نے پولیس افسران پر تشدد اور زبردستی اعترافِ جرم کرانے کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب وہ اپنی بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے تھانے گیا تو پولیس نے متاثرہ ہونے کے بجائے اسے ہی حراست میں لے لیا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے اس پر تشدد کیا اور اس سے بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کروانے کی کوشش کی۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا اور وہ اہلِ خانہ کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے پولیس کو واضح طور پر کہا کہ میں نے اپنی بیوی اور بچی کو اپنی آنکھوں کے سامنے سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، مگر پولیس افسران مجھے جھوٹا قرار دیتے رہے۔
متاثرہ شوہر نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا اور مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ یہ بیان دے کہ اس نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس نے اس کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا ہوا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ بعد ازاں تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور بچی کی لاشیں تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں، جس کے بعد واقعے نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔


