کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ میں نئی نہروں کے خلاف جاری احتجاج کی وجہ سے اہم شاہرائیں اور لنک روڈز بند پڑی ہیں۔ ہزاروں گاڑیاں، بشمول آئل ٹینکرز، گیس باوزر اور کوئلہ بردار ٹرک، کئی دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر رہی ہے بلکہ انسانی جانوں اور قیمتی مال کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
موجودہ حالات میں کسی بھی وقت بڑا سانحہ یا المناک حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ آئل ٹینکرز، گیس باوزر اور کوئلہ بردار جیسی خطرناک گاڑیوں کا طویل وقت تک دھوپ میں کھڑے رہنا شدید حفاظتی خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آگ لگنے، دھماکوں یا دیگر سنگین حادثات کا خدشہ ہے، جس کے نتائج نہایت ہولناک ہو سکتے ہیں۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ کے صدر اویس اہڈوکیٹنے کہا کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے۔ اس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر ہم وزیرِاعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر صاحب، اور چیف جسٹس آف پاکستان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری نوٹس لیں اور سندھ میں بند سڑکوں کو کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔


