نیپرا ایک ماہ میں لوڈشیڈنگ کا جواب جمع کرائیں،عدالتی حکم

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر اور اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ کی میڈیا سے گفتگو-آج ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے-چھ گیارہ 2025 کو عدالت نے حکم دیا تھا جی نیپرا ایک ماہ میں لوڈ شیڈنگ کا جواب جمع کرائیں

ایک ماہ کیا چھ ماہ گزر گئے مگر بدترین لوڈ شیڈنگ کے باجود نیپرا نے جواب جمع نہیں کرایا ہے-کے الیکٹرک نے پورے شہر کو اندھیروں میں دھکیلا دیا ہے-اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے-

2005 میں اسی لیے ادارہ پرائیویٹز کیا گیا کی بلا تعطل بجلی فراہم کرے گا-مگر یہ ادارہ لوٹنے میں مصروف ہوگیا ہے-اس ادارے کو کھمبوں کے عوض فروخت کردیا گیا ہے-چالیس لاکھ صارفین ہوچکے ہیں جب ادارہ پرائیویٹ ہوا 18 لاکھ صارفین تھے-ایک پرائیویٹ ادارے کو بھاری سبسڈی دی جارہی ہے-بجلی کی فراہمی میں کے الیکٹرک ناکام ہوچکا ہے-

2005 سے اب 25 فیصد بجلی کم فراہم کی جارہی ہے-ایک پورا گورکھ دھندہ ہے کراچی میں 12،12 سے 18,18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے-بچوں کے امتحانات ہورہے ہیں رات بھر بچے پڑھ نہیں سکتے ہیں-نیپراکے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کا گٹھ جوڑ ہے-انکم ٹیکس ،مزید ٹیکس ،ایم یو سی ٹی چارجز تک وصول کیے جارہے ہیں-

سارے ٹیکسز بوجھ ہیں لوگوں کی جیبوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے-ابھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو حکمران نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے-چار سو ملین روپے کا ڈاکہ لوگوں کی جیبوں پر ڈالا گیا ہے-کے الیکٹرک شہریوں کو بجلی کی فراہمی میں ناکام ہوچکا ہے-ہم نے عدالتوں اور نیپرا میں بھی مقدمات کیے ہوئے ہیں-

پہلی دفعہ کے الیکٹرک پر 50 ملین روپے کا جرمانہ کیا گیا تھا-مگر سی ای او کے الیکٹرک نے کہا کہ ہم جرمانہ ادا کردیں گے مگر لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کریں گے-بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انڈسٹری بند ہورہی ہے لوگ بے روز گار ہورہے ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں