کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کراچی بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے، جہاں وکلا برادری اپنی قیادت کے انتخاب کے لیے تیار ہے۔ اس بار 7 مئی کو ہونے والے الیکشن میں **عمران عزیز ایڈوکیٹ ہائی کورٹ** کی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر نامزدگی نے انتخابی میدان میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
**خدمت کا تسلسل اور بے مثال ماضی**
عمران عزیز کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ گزشتہ دور میں بطور جوائنٹ سیکرٹری کراچی بار ایسوسی ایشن، انہوں نے نہ صرف بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ وکلا کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔ دن ہو یا رات، انہوں نے وکلا کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خود کو وقف کیے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے وکلا ان کی سابقہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مزید بڑی ذمہ داری یعنی جنرل سیکرٹری کے لیے سب سے موزوں امیدوار قرار دے رہے ہیں۔
**نوجوان قیادت اور بلند عزم**
عمران عزیز کا انتخاب محض ایک عہدے کا حصول نہیں بلکہ **”وکلا کے وقار کی بحالی”** کا ایک مشن ہے۔ ایک نوجوان اور متحرک لیڈر کی حیثیت سے، ان کا بیڑہ درج ذیل نکات پر محیط ہے:
* **وکلا کا تحفظ اور وقار:** بار اور بینچ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا اور وکلا کے پیشہ ورانہ تحفظ کو یقینی بنانا۔
* **نوجوان وکلا کی سرپرستی:** نئے آنے والے وکلا کے لیے سیکھنے کے مواقع اور بہتر ورکنگ ماحول فراہم کرنا۔
* **سماجی فلاح:** وکلا اور ان کے اہل خانہ کے لیے طبی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تیزی لانا۔
**وکلا برادری کا بھرپور اعتماد**
کراچی بار کے سینئر اور جونیئر وکلا کا کہنا ہے کہ عمران عزیز ایک ایسے امیدوار ہیں جن کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ان کی نامزدگی نے اس امید کو تقویت دی ہے کہ بار کی قیادت اب ایک ایسے ہاتھ میں ہوگی جو نڈر بھی ہے اور باصلاحیت بھی۔
7 مئی کا سورج کراچی کے وکلا کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ وکلا برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ **”عمران عزیز کی کامیابی، کراچی بار کی کامیابی ہے”**۔ اب تمام نظریں 7 مئی کے معرکے پر لگی ہوئی ہیں جہاں “نوجوان قیادت” اپنی جیت کی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔


