سپریم کورٹ کا سنگ میل فیصلہ؛ پولیس ملازمین کی سینیارٹی کا تعین ‘تاریخِ بھرتی’ سے ہوگا

**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو)** سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا قانونی اصول طے کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ ملازمین کی سینیارٹی (قدمت) کا شمار ان کی ابتدائی تقرری کی تاریخ (Initial Date of Appointment) سے کیا جائے گا۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ سینیارٹی ملازم کا ایک بنیادی حق ہے جس پر اس کے پورے کیریئر کا دارومدار ہوتا ہے۔

**کیس کا پس منظر:**
یہ فیصلہ سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (ASIs) کی درخواستوں پر سنایا گیا۔ محکمہ پولیس نے ان ملازمین کو شوکاز نوٹس دیے بغیر ان کی سینیارٹی کی فہرستوں میں ردوبدل کر دیا تھا، جسے سندھ سروس ٹریبونل نے کالعدم قرار دے کر ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اب ٹریبونل کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

**فیصلے کے اہم قانونی نکات:**
* **پولیس رولز 1934:** عدالت نے قرار دیا کہ سینیارٹی کا بنیادی تعین پولیس رولز کے تحت ابتدائی تقرری سے ہوگا، تاہم پروموٹ ہونے والے افسران کو براہ راست بھرتی والوں پر برتری حاصل رہے گی۔
* **فیئر ٹرائل (آرٹیکل 10-A):** فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی ملازم کی سینیارٹی میں تبدیلی سے قبل اسے شوکاز نوٹس دینا اور صفائی کا موقع دینا لازمی ہے۔ ایسا نہ کرنا آئین کے تحت فیئر ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
* **ملازمت کی بحالی:** سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملازم ملازمت پر بحال ہوتا ہے تو اس کی سینیارٹی اصل تاریخ سے ہی بحال ہوگی اور اسے “نئی تقرری” نہیں مانا جائے گا۔
* **قانونی طریقہ کار (Due Process):** عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانونی طریقہ کار کے بغیر جاری کیا گیا کوئی بھی محکمانہ حکم غیر قانونی تصور ہوگا اور اس کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پولیس کے سروس اسٹرکچر میں شفافیت آئے گی اور ملازمین کو ان کی حق تلفی کے خلاف مضبوط قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں