سابق رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسرڈاکٹرمنظوراحمد کی یاد میں تعزیتی اجلاس

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ حقیقی استاد وہ ہوتا ہے جو محض تدریس تک محدود نہ رہے بلکہ طلبہ کی رہنمائی کرے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائے۔ یہ تمام خوبیاں پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کی شخصیت میں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ وہ ایک ایسے استاد اور رہنما تھے جنہوں نے اپنی علمیت، کردار اور خدمات کے ذریعے ایک مثال قائم کی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سابق رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کی یاد میں چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ افراد اداروں سے بڑے نہیں ہوتے، مگر تاریخ میں کچھ شخصیات اپنی بے مثال خدمات کے باعث خود ایک ادارہ بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر منظور احمد کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ جامعہ کراچی کی شناخت کو بھی عالمی سطح پر مستحکم کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ آج کے دور میں اساتذہ کی تعداد تو زیادہ ہے مگر منٹورشپ کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جاتا ہے، جبکہ ماضی کی دہائیوں میں استاد اپنے شاگردوں اور حتیٰ کہ ساتھی اساتذہ کے لیے بھی رہنما اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر منظور احمد بھی انہی اساتذہ میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا استاد اکثر مقررہ اوقات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، اس لیے اساتذہ کو ڈاکٹر منظور احمد کی زندگی، طرزِ فکر اور تدریسی انداز سے سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سلیم میمن نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جو لوگوں کو خود بخود اپنی جانب متوجہ کر لیتی تھی۔ ان کا اندازِ گفتگو نہایت شائستہ، مشفقانہ اور متاثر کن تھا، جو سامع پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔

شعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر سکندر مہدی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد مرحوم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ بے پناہ علمی و انتظامی کامیابیوں کے باوجود وہ نہایت ملنسار، منکسر المزاج اور عاجز انسان تھے۔ وہ نوجوان اساتذہ کے لیے نہ صرف ایک بہترین استاد بلکہ ایک زبردست محرک اور مشعلِ راہ بھی تھے۔

چیئرپرسن شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ محمود نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد نے جامعہ کراچی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس ادارے کو وہ مقام دلایا جسے برقرار رکھنا آج کے جدید دور میں بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ڈاکٹر منظور احمد کی صاحبزادی فزیحہ سعدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد مرحوم نے ہمیشہ بغیر کسی صلے یا توقع کے اپنے فرائض انجام دیے۔ وہ عہدے، شہرت یا دولت سے متاثر نہیں ہوتے تھے بلکہ خلوص اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کام کرتے رہتے تھے۔

شعبہ فلسفہ جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب سوری نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد کو یہ منفرد صلاحیت حاصل تھی کہ وہ مشکل اور دقیق موضوعات کو نہایت سادہ اور آسان الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ وہ تنقید کو خوش دلی سے سنتے، اسے برداشت کرتے اور اس سے سیکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔

ڈاکٹر عامر جعفری نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد نے فلسفے جیسے پیچیدہ مضمون کو عام فہم بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا، تاکہ ایک عام آدمی بھی فلسفیانہ مباحث کو سمجھ سکے۔
اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد ایک شفیق اور مہربان استاد ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد علمی و تحقیقی تصانیف کے خالق بھی تھے۔ ان کی تحریریں ہمہ جہت، متنوع اور علمی دنیا میں ایک قیمتی اثاثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

تعزیتی اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد کی علمی، تدریسی اور فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و اخلاقی ورثے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں