گندم سبسڈی کے نظام میں شفافیت ناگزیر ہے۔ عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے: سلیم میمن

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر جناب محمد سلیم میمن نے سندھ میں گندم کی سبسڈی اور فوڈ پاس پالیسی 2025-26 سے متعلق سامنے آنے والی معلومات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے نظام میں شفافیت، توازن اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف حقیقی طور پر عام صارف تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق سندھ حکومت سبسڈی کے تحت 100 کلوگرام گندم کی بوری تقریباً 8,000 روپے میں فراہم کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ میں یہی گندم فلور ملز کو تقریباً 9,500 روپے فی بوری کے حساب سے دستیاب ہو رہی ہے، جس سے فی بوری تقریباً 1,500 روپے کا فرق پیدا ہو رہا ہے۔ یہ فرق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پورے سپلائی چین کا جائزہ لیا جائے۔صدر چیمبر سلیم میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم سبسڈی کے لیے تقریباً 85 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو ایک بہت بڑی عوامی سرمایہ کاری ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے کہ اس رقم کا فائدہ براہِ راست عوام اور صارفین تک پہنچے۔صدر چیمبر نے مختلف گوداموں میں موجود تقریباً سالوں پرانی گندم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حالت کا تکنیکی اور مشترکہ معائنہ ہونا چاہیے تاکہ صحت عامہ کے ممکنہ خدشات سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے فلور ملز کو روزانہ کی بنیاد پر محدود مقدار تقریباً 8 سے 15 ہزار بوریاں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق بڑی مقدار میں گندم بین الصوبائی نقل و حرکت کے ذریعے دیگر صوبوں کی جانب جا رہی ہے، جس سے مقامی صارفین کو دستیابی کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔ سلیم میمن نے مطالبہ کیا کہ گندم کی الاٹمنٹ پالیسی کا جامع جائزہ لیا جائے، ٹریڈرز اور فلور ملز کے کردار کو واضح اور متوازن کیا جائے، تمام ذخائر اور ترسیل کا شفاف آڈٹ کرایا جائے، خراب گندم کی بروقت نشاندہی اور تلفی کی جائے، اور سب سے بڑھ کر یہ یقینی بنایا جائے کہ سندھ کے عوام کے لیے مختص سبسڈی کا فائدہ کسی بھی صورت میں صوبے سے باہر منتقل نہ ہو اور براہِ راست صارفین تک پہنچے۔صدر محمد سلیم میمن نے زور دیا کہ گندم کی خریداری میں نجی شعبے کو شامل کرنا نہایت ضروری ہے، تاکہ خریداری کا عمل زیادہ مؤثر اور شفاف ہو سکے۔ نجی شعبے کی شمولیت سے ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور مارکیٹ کی مانگ و رسد کے مطابق تقسیم بہتر بنائی جا سکتی ہے، نیز جدید اسٹوریج اور نقل و حمل کے نظام میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ اس طرح پورے گندم کے سپلائی چین کی کارکردگی بہتر ہوگی اور سرکاری اداروں پر انحصار کم ہوگا، جس سے ممکنہ رکاوٹوں اور بروکریسی کے مسائل بھی کم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر حکومتِ سندھ، فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ مشترکہ کوششوں سے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہو۔

سیکریٹری جنرل

اپنا تبصرہ بھیجیں