کوڑے میں نو لاکھ… مگر ضمیر ایک روپے کا بھی نہ بکا!

**فیصل آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — ایمانداری، دیانت اور کردار کی ایسی زندہ مثال جس پر پورا شہر نازاں ہے!
فیصل آباد کی صفائی ورکر **نصرت بی بی** نے اپنی امانت داری سے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں آج بھی ایمان اور دیانت زندہ ہیں۔

محلہ **نگر بان پورہ** میں معمول کے مطابق صفائی کے دوران نصرت بی بی کو کوڑے کے ڈھیر میں ایک پیکٹ ملا۔
جب پیکٹ کھولا تو اندر سے **نوٹوں کی گڈیاں** برآمد ہوئیں — کل رقم نکلی **نو لاکھ روپے**۔

مگر دیکھنے والی بات یہ تھی کہ نصرت بی بی کا **ضمیر** لمحے بھر کے لیے بھی نہیں ڈولا۔
انہوں نے فوراً اپنے افسر کو اطلاع دی اور پیکٹ کو **صفائی کمپنی کے دفتر** پہنچا دیا۔

تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ یہ رقم محلے کے ایک رہائشی کی تھی جو **گھر کی صفائی کے دوران غلطی سے کوڑے میں پھینک دی گئی** تھی۔

نصرت بی بی کی امانت داری نے سب کو حیران کر دیا — اور ان کے اس کردار کی مثال پورے فیصل آباد میں دی جانے لگی۔

آج **ڈپٹی کمشنر آفس فیصل آباد** میں ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جہاں:

* رقم کے **مالک نے 1 لاکھ روپے انعام** دیا،
* **صفائی کمپنی** نے بھی **1 لاکھ روپے انعام** دیا،
* **ڈپٹی کمشنر فیصل آباد** نے **1 لاکھ روپے انعام** کے ساتھ ساتھ نصرت بی بی کے **بیٹے کے لیے ملازمت** کا اعلان بھی کیا۔

نصرت بی بی کی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو تھے، مگر چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ۔
ان کا کہنا تھا:

> “میری محنت اور ایمان ہی میری اصل دولت ہیں۔ اللہ نے عزت دی، بس یہی سب سے بڑا انعام ہے۔”

یہ ہے **اصل پاکستان** —
جہاں ایمان بیچا نہیں جاتا، کردار تراشا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں