کم عمری کا نکاح: قصور میں 12 سالہ بچی کے نکاح نے نئے قانونی سوالات کھڑے کر دیے

**قصور (ایچ آراین ڈبلیو):** قصور میں 12 سالہ بچی ریشماللہ عروج کے مبینہ اغوا اور بعد ازاں کم عمری میں نکاح کے معاملے نے قانونی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تھانہ اے ڈویژن قصور میں درج مقدمہ نمبر 364/26 کے بعد صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ لاپتہ بچی نے مبینہ طور پر زین نامی نوجوان سے نکاح کر لیا ہے۔

اس کیس سے جڑے اہم نکات درج ذیل ہیں:

* **قانونی پیچیدگیاں:** ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ مروجہ قوانین کے تحت کم عمر بچی کا نکاح ایک قابلِ گرفت جرم ہے۔
* **نکاح خواں کا کردار:** نکاح پڑھانے والے رجسٹرار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے بچی کی عمر اور شناختی دستاویزات کی تصدیق کی قانونی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کی۔
* **پولیس کی تحقیقات:** پولیس اس معاملے کی تفتیش ہراسمنٹ اور کم عمری کے نکاح، دونوں پہلوؤں سے کر رہی ہے، تاہم نکاح خواں کے خلاف تاحال ایف آئی آر درج ہونے کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
* **عدالتی احکامات:** ہراسمنٹ سے متعلق پٹیشن خارج ہونے کے بعد پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی کو بلاجواز ہراساں نہ کیا جائے۔
* **سماجی ردِعمل:** عوامی حلقوں نے اس حساس معاملے پر مقامی این جی اوز (NGOs) کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات اور بچی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔

ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں