سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن پر سخت ریمارکس: منصوبے کی لاگت 16 ارب سے بڑھ کر 31 ارب تک پہنچ گئی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کے دفتر سیل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے منصوبے میں غیر معمولی تاخیر اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران سامنے آنے والے اہم نکات اور عدالتی ریمارکس درج ذیل ہیں:

* **شہر کی صورتحال پر برہمی:** جسٹس نثار بھمبھرو نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورا روڈ کھود دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی طور پر پہلے متبادل راستہ بنایا جاتا ہے اور پھر کام شروع کیا جاتا ہے۔
* **غیر ملکی کمپنیوں کا معیار:** جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ غیر ملکی کمپنیوں کا معیار اپنے ملک میں کچھ اور ہوتا ہے، جبکہ یہاں (پاکستان میں) آ کر وہ کچھ اور معیار اپناتی ہیں۔
* **منصوبے کی لاگت میں اضافہ:** ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت 16 ارب روپے سے بڑھ کر اب 31 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
* **سماعت کا التوا:** عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔

**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔

ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں