**دیر بالا (ایچ آراین ڈبلیو):** امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی نظام پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے عوام کو محض نعروں اور جھنڈوں کے ذریعے دھوکا دیا جا رہا ہے جبکہ طاقتور طبقات کو اب آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے معاشی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پٹرول پر ناجائز طریقے سے 160 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے، جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر ہے؛ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف موٹرسائیکل چلانے والے ایک سال میں 550 ارب روپے اور تنخواہ دار طبقہ سالانہ 650 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لٹر مقرر کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
امیر جماعت اسلامی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی گڈ گورننس محض نعروں تک محدود ہے اور 14 سال سے ایک ہی جماعت کے اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے کو حکمرانوں کی نااہلی قرار دیا اور وفاقی حکومت کی قرضہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی قرضہ چار سالوں میں 55 ہزار ارب سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکمران روزانہ 20 ارب روپے کے مزید قرضے لے رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک کی بیوروکریسی آج بھی انگریز دور کے غلامانہ نظام پر چل رہی ہے جس کی وجہ سے غریب کے لیے انصاف کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
—
**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


