**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے رواں سال خریف کی فصل کے لیے پانی کی دستیابی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے تحت سندھ کو 29 فیصد اور پنجاب کو 31 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی کے جاری کردہ اجلاس کے منٹس کے مطابق، سال 2026 کے لیے پانی کی دستیابی سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران مجموعی طور پر 20.356 ملین ایکڑ فٹ پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ کوٹری کے نیچے پانی کا اخراج 5.596 ملین ایکڑ فٹ رہا جو گزشتہ سال کے 0.470 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم، 20 مارچ 2026 تک صوبوں کی جانب سے پانی کا استعمال طے شدہ منصوبہ بندی سے کم رہا ہے۔ صورتحال کے پیشِ نظر ارسا مشاورتی کمیٹی کے اگلے اجلاس سے قبل تمام متعلقہ فریقین کا ایک مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم اور دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
—
**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


