**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** شاہدرہ کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے قتل کے لرزہ خیز واقعے میں ایم اے کی طالبہ علینہ نے اپنے دوست کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اس نے مقتول کے سر اور سینے میں گولیاں ماریں کیونکہ وہ اسی کا مستحق تھا۔
واقعات اور تفتیش کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
* **واقعہ اور فرار:** گزشتہ ماہ شاہدرہ کے ایک ہوٹل میں فائرنگ ہوئی، ہوٹل انتظامیہ ایک گھنٹے تک کمرہ تلاش کرتی رہی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمہ باآسانی فرار ہوگئی۔
* **گرفتاری:** پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمہ کی نشاندہی کی اور 72 گھنٹے بعد اسے گھر سے گرفتار کر لیا۔
* **قتل کی وجہ:** ملزمہ کے مطابق مقتول ایک سال سے دوستی کی آڑ میں اسے بلیک میل کر رہا تھا اور غیر اخلاقی ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔
* **منصوبہ بندی:** علینہ نے ویڈیوز ڈیلیٹ کرانے کی آخری کوشش ناکام ہونے پر اپنے والد کا لائسنسی پستول استعمال کیا، جس کو چلانے کی مہارت اس نے یوٹیوب سے حاصل کی تھی۔
* **اعترافِ جرم:** ملزمہ نے تسلیم کیا کہ اس نے قتل کے بعد آدھے گھنٹے تک مقتول کی موت کا انتظار کیا اور ہوٹل انتظامیہ کو دھوکہ دے کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔
پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزمہ کو جیل منتقل کر دیا ہے۔
—
**تعاون کی اپیل:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے کے مشن میں دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں سچائی کے فروغ اور مظلوموں کی آواز بننے کے سفر کو جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
ہماری مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


