قصور (ایچ آراین ڈبلیو) — پنجاب کے ضلع قصور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے عدالت کی جانب سے ملزم کو بری کیے جانے پر خود کو آگ لگا لی۔
ذرائع کے مطابق واقعہ قصور کی تحصیل پتوکی کے نواحی علاقے میں پیش آیا، جہاں 2022 میں ایک پولیس اہلکار **رفیق** پر ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کے مطابق، واقعے کے بعد خاتون نے انصاف کے حصول کے لیے مسلسل عدالتوں اور پولیس کے چکر کاٹے، تاہم مقدمے کے دوران مبینہ طور پر ملزم کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل رہی۔
جمعہ کے روز عدالت نے ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث ملزم رفیق کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے فوراً بعد متاثرہ خاتون نے عدالت کے باہر شدید احتجاج کیا اور مایوسی کی حالت میں خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔
خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں **قصور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال** منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کے جسم کا 70 فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا دباؤ ثابت ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ہمارے عدالتی اور تفتیشی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول میں تاخیر اور طاقتور طبقے کے اثرورسوخ کے باعث متاثرین کو انصاف ملنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
—
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس خبر کا **مختصر ٹی وی نیوز بلیٹن ورژن** یا **اخباری ہیڈلائنز ورژن** بھی تیار کر دوں؟


