حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف رائٹس آف چائلڈ (SPARC) کے زیرِ اہتمام، ہیومن رائٹس سیل حیدرآباد پولیس اور وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جامشورو کے تعاون سے ٹرانس جینڈر رائٹس اینڈ پروٹیکشن کے موضوع پر ایک اہم اویئرنیس سیشن نیشنل انکیوبیشن سینٹر حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ پروگرام 16 ڈیز آف ایکٹیوزم اگینسٹ جینڈر بیسڈ وائلنس کے سلسلے کی سرگرمیوں کا حصہ تھا، جس کا مرکزی موضوع Inclusion, Dignity & Safety for All رکھا گیا
تقریب میں ڈپٹی کمشنر حیدرآباد جناب زین العابدین میمن، ایس ایس پی حیدرآباد عدیل حسین چانڈیو، ہیومن رائٹس سیل کی فوکل پرسن محترمہ ماریہ ساریو، کامران آفریدی،سیف ہاؤس جامشورو کی انچارج سیدہ قراۃ العین شاہ، ایس ایچ او سکینہ بھٹی، ماہر قانون داں فاطمہ تالپور سمیت سول سوسائٹی، ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین و نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
“ٹرانس جینڈر کمیونٹی ہمارا اہم سماجی حصہ ہے، انہیں یکساں احترام اور مواقع دینا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم انہیں مساوی سلوک نہیں دیں گے تو معاشرے میں خلا پیدا ہوگا
ڈپٹی کمشنر زین العابدین نے مزید اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ ماریہ ساریو کی بہترین کارکردگی کے باعث سرٹیفکیٹ اور شیلڈ دیتے ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ اعترافِ خدمت کی مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
“ہمیں تو بعض اوقات ایس ایس پی آفس سے حسد محسوس ہوتی ہے کہ ان کے پاس اتنی فعال، محنتی اور باصلاحیت ٹیم ممبر موجود ہے، مگر ماریہ نے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ صرف ایس ایس پی آفس کی ایمپلائی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو بھی اُسی خلوص اور لگن سے سپورٹ کیا ہے جس طرح پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کرتی ہیں۔ ہم اپنی بہن ماریہ ساریو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے۔”
ہیومن رائٹس سیل کی انچارج ماریہ ساریو نے کہا کہ یہ پروگرام ’’16 ڈیز آف ایکٹیوزم‘‘ اور عالمی انسانی حقوق کے دن کے سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے سیشن میں ٹرانس جینڈر افراد کے لیے جاب اپورچونٹیز، فوڈ بزنس سپورٹ اور فیوچر پلاننگ پر اہم پیش رفت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس، اسمال بزنس اور سیفٹی سے متعلق منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے، ان شاءاللہ اسی ہفتے کمیونٹی کے لیے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔
تقریب میں کمیونٹی کے ان ٹرانس جینڈر افراد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اپنا طرزِ زندگی مثبت انداز میں تبدیل کرتے ہوئے معاشرے کا فعال حصہ بننے کی مثال قائم کی ہے۔ شرکا کو تنبیہ کی گئی کہ وہ ٹرانس جینڈر افراد کو ہراسانی، کمتر رویے اور امتیازی سلوک سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
SPARC کے آرگنائزرز اور تمام محکموں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اویئرنیس پروگرامز مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے تاکہ معاشرے میں مساوات، احترام اور انسانی حقوق کے فروغ کو یقینی بنایا جاسکے


