حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے اہم سرکاری ادارے جن میں اسپتال، تعلیمی ادارے، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ اور کئی دیگر شعبے شامل ہیں، غیر ملکی این جی اوز کی مداخلت سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ان این جی اوز نے “تعاون” کے نام پر ان اداروں میں اپنے منصوبے، عملہ اور اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے، جس سے نہ صرف ان اداروں کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔
اس وقت سندھ حکومت کے درجنوں اہم محکمے غیر ملکی این جی اوز کے شکنجے میں ہیں، جن میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، محکمہ زراعت، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ بہبودِ آبادی، محکمہ ترقی نسواں، محکمہ لیبر، محکمہ انسانی حقوق اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ جیسے حساس محکمے بھی شامل ہیں۔ ان تمام محکموں میں این جی اوز کھلے عام سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور پراجیکٹس کے نام پر سرگرم ہیں، اور اندرونی پالیسیوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
عوامی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ این جی اوز کروڑوں روپے خرچ کر کے پاکستان کے اداروں میں کیا تلاش کر رہی ہیں؟ ان کے مقاصد واقعی “فلاحی” ہیں یا کچھ اور؟ اور حکومتِ سندھ، متعلقہ وزارتیں اور نگران ادارے خاموش کیوں ہیں؟
شہریوں نے اعلیٰ حکام، وفاقی اداروں اور حساس اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں، ان تمام غیر ملکی تنظیموں کی سرگرمیوں، فنڈنگ اور مقاصد کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کروایا جائے تاکہ ملک کی نظریاتی اور انتظامی خودمختاری محفوظ رہ سکے۔


