کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کے نائب صدرامان پراچہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک (جی سی ڈی) اسیسمنٹ رپورٹ میں پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر منظم اور بدترین کرپشن کے حوالے سے بے نقاب کی گئی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن جیسے ناسور کو روکنے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی92 ٹھوس اصلاحات پر عملدرآمد کیا جائے۔امان پراچہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان میں کمزور طرزِ حکمرانی، قانون کی شکست و ریخت اور کرپشن پر جوانکشافات کئے ہیں وہ یقیناً حقائق پر مبنی ہیں اوراس کرپشن نے ملک کی معاشی صلاحیت کو اس حد تک مفلوج کر دیا ہے اور اسی وجہ سے سالانہ بنیادوں پر 5سے 6.5 فیصد جی ڈی پی کی ترقی رک رہی ہے۔امان پراچہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کیلئے قائم ذمہ دار ایجنسیوں نیب، ایف آئی اے اورصوبائی انٹی کرپشن اداروں کی خود مختاری اور ان میں جامع اصلاحات لائی جائیں، نیب اور صوبائی انسداد بدعنوانی کے اداروں کو آزاد اور خود مختار کیا جائے اور اعلی ٰ سطح کی کرپشن تحقیقات کو موثر بنانے کیلئے نیب کیسربراہ کی تعیناتی کے عمل کو بہتر بنایاجائے، نیب کی تحقیقاتی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے اور ان اداروں کے اندراحتساب کے عمل کو یقینی بنایاجائے، ملک میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کیلئے اعلی ٰ سرکاری افسران کے اثاثوں، اختیارات اور وسائل کو جمع کرنے، ڈیجیٹائز کرنیا ور ظاہر کرنے کیلئے ایف بی آر، پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر مشتمل مرکزی اتھارٹی قائم کی جائے، پاکستان کے انسداد بدعنوانی کیلئے کام کرنیوالے تین اداروں نیب، ایف آئی اے اور صوبائی انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اداروں میں رسک بیسڈ اپرو چ اختیار کی جائے،مشکوک ٹرانزکشن کی نشاندہی، کرپشن تک رسائی اور تحقیقات کیلئے نیب، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ایف بی آر کے مابین معلومات کے تبادلے اور رابطوں کو بڑھایاجائے، کرپشن کے جرائم پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی استعداد کو مضبوط کیاجائے اور نیب کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اختیار کی جائے تا کہ انسداد بدعنوانی کے خلاف تحقیقات موثر ہو سکیں،صوبائی انسداد عنوانی کے اداروں کی آزادی اور خودمختاری دی جائے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کیا جائے تو ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور جورقوم کرپشن کے باعث مخصوص افراد کی جیبوں میں جارہی ہے وہ قومی خزانے میں جائے گی اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔ امان پراچہ نے کہا کہ ملک کی موجودہ آبادی25کروڑ کے قریب ہے اگر 4ڈالر سے زائد آمدن فی کس یومیہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو دس کروڑ 72لاکھ افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور سر کاری طریقہ کار کوسامنے رکھاجائے تو پھر چار کروڑ سے زائد لوگ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن اگر ملک سے بدترین کرپشن کا خاتمہ ہوجائے توغربت کی شرح میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ حکمران لفظوں کے بجائے عملی طور سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں اور ممبران پارلیمنٹ اس ضمن میں اپنا نمایاں کردار ادا کریں۔


