آئی ایم ایف نے حکومتی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیاصاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ حکومت مطلوبہ اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہے، ٹیکس اہداف پورے نہیں ہوئے، توانائی کے شعبے میں بدانتظامی بڑھ گئی ہے، گردشی قرضہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے اور روپے کی قدر مسلسل گرتی جا رہی ہے یہ سب شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ معاشی ٹیم ملک کو استحکام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے موجودہ حکومت کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں، عوام کو معاشی ریلیف دینے کے بجائے قرضوں پر چلنے والی پالیسیوں نے مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر ایسے فیصلے کیے جن کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑا ہے۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کاروبار بند ہورہے ہیں، صنعتیں زوال کا شکار ہیں جبکہ متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی بدحالی سے دوچار ہے، آئی ایم ایف کی پالیسیاں پاکستان کی معاشی خودمختاری کے خلاف ہیں اور ان پر عمل درآمد سے ملکی ادارے، وسائل اور معیشت بیرونی کنٹرول میں چلے جاتے ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہے جبکہ حکمران اپنی عیاشیوں، پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی ترک کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار پاکستان کو معاشی بدانتظامی پر تنبیہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک موجودہ ناکام پالیسیوں کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا اب بھی وقت ہے کہ حکومت آنکھیں کھولے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور عوام دوست حقیقی معاشی اصلاحات لائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکمران طبقہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکل کر آزاد معاشی پالیسی نہیں اپنائے گا، ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی معیشت کا حل بیرونی قرضوں پر انحصار نہیں بلکہ اسلامی معاشی اصولوں، خود انحصاری، کرپشن کے خاتمے اور منصفانہ معاشی نظام کے نفاذ میں ہے۔ ملک کو معاشی تباہی سے نکالنے کا واحد راستہ نظامِ مصطفےٰ ﷺ کے نفاذ اوراسلام کے عادلانہ معاشی نظام کے قیام میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں