27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینِ پاکستان کا جمہوری و اسلامی تشخص مسخ کیا جارہا ہے

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)‌ جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 1973ء کے متفقہ آئین کا حلیہ بگاڑنے کی خطرناک کوشش کی گئی ہے، جس سے پاکستان کے جمہوری اور اسلامی تشخص کو ملیامیٹ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے طاقتور طبقے کو تاحیات استثنیٰ اور عہدوں پر تاحیات تعیناتی جیسے غیر جمہوری و غیر آئینی اختیارات دیے جا رہے ہیں، جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بنیادی اصولوں اور روحِ دستور کے سراسر منافی ہیں۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ یہ ترمیم دراصل طاقتور طبقات کے مفادات کے تحفظ اور خود کو قانون سے بالاتر ثابت کرنے کی کوشش ہے، جس سے ملک میں عدل و انصاف کا نظام مفلوج ہو جائے گا۔ عوام کے بنیادی حقوق، آزادی اظہار، اور پارلیمانی بالادستی بری طرح مجروح ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جن حکمرانوں نے آئین کو پامال کیا، جمہوریت کو کچلا، اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا، وہ سب عبرت کا نشان بن گئے۔ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے حکمرانوں کا انجام تاریخ کے اوراق میں عبرت کے طور پر محفوظ ہے، مگر افسوس کہ آج کے حکمران ماضی سے سبق لینے کے بجائے اسی راستے پر گامزن ہیں۔ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے مزید کہا کہ ملک کو آئینی و جمہوری بحران میں دھکیلنے کے بجائے قومی وحدت، عدل و مساوات، اور شریعتِ محمدی ﷺ کے نفاذ کی سمت بڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء پاکستان تمام مذہبی و جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی ترمیم کے خلاف مؤثر آواز بلند کرے گی تاکہ ملک کو آمریت کے پنجوں میں جانے سے بچایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں