**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — **سندھ ہائیکورٹ** میں **امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر** و دیگر کی جانب سے **ای چالان کے خلاف دائر درخواست** پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے **فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کرلیا**۔
درخواست گزار کے وکیل **عثمان فاروق ایڈووکیٹ** نے مؤقف اپنایا کہ **خودکار نظام کے تحت خلاف ورزی پر ای چالان بھیجے جارہے ہیں**، مگر شہر میں **نہ زیبرا کراسنگ موجود ہیں اور نہ ہی اسپیڈ لمٹ کے سائن بورڈ** لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ **شہر کی خستہ حال سڑکیں شہریوں کو متبادل یا غلط راستے اپنانے پر مجبور کرتی ہیں**، جبکہ بعض مقامات پر **ترقیاتی منصوبوں کے باعث ٹریفک پولیس خود رانگ وے ٹریفک چلاتی ہے**۔
وکیل کے مطابق **جہانگیر روڈ، نیو کراچی روڈ** سمیت کئی سڑکیں **انتہائی مخدوش حالت** میں ہیں، ایسے میں **چالان کی رقم میں ہزار گنا اضافہ، لائسنس کی معطلی یا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی اقدام** ہے۔
عدالت نے تمام فریقین سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے **مزید سماعت 25 نومبر** تک ملتوی کردی۔


