اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ثالثی کی بات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے پیش رفت کو مثبت سمجھا جاتا ہے۔رانا ثناء اللہ کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے، جن پر حکومت نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکراتی عمل شروع کیا گیا اور حکومت کی کمیٹی نے مظفرآباد جا کر فریقین سے ملاقاتیں بھی کیں۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں سے متعلق وزیراعظم نے فوری طور پر بعض مطالبات منظور کیے جبکہ گندم پر 2000 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ ہسپتالوں کے لیے طبی مشینری سے متعلق مطالبات بھی منظور کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملہ بھی زیر غور ہے، جس پر آزاد کشمیر اسمبلی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے، اور اس حوالے سے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا، جبکہ 9 جون کے احتجاج کا اعلان انتخابات کو روکنے کی کوشش تھا۔رانا ثناء اللہ کے مطابق حکومت مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے راستے پر یقین رکھتی ہے۔


