کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان بزنس گروپ کے بانی چیئرمین فراز الرحمان نے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیااور چانسلر محمد اکبر علی خان سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فراز الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بزنس گروپ پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ ملک و قوم کی ترقی اور کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے ان کوششوں میں اپنے مکمل تعاون اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر کی حیثیت سے اپنے دور میں، انہوں نے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے عوام کی بہتری اور خوشحالی پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔
انٹرپرینیورشپ کی طرف طلباء کی حوصلہ افزائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، فراز الرحمان نے نشاندہی کی کہ آج کی متحرک دنیا میں، انٹرپرینیورشپ کا حصول ان افراد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنے راستے خود بنانے کے خواہشمند ہیں۔ جب طلباء اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرتے ہیں توکاروباری شعبے میں داخل ہونے کا موقع محض ایک انتخاب نہیں ہوتابلکہ یہ معاشرے میں ایک مثبت اور تعمیری اثرات ڈالتا ہے۔
اپنے وژن اور خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چانسلر محمد اکبر علی خان نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی ایک منفرد یونیورسٹی ہے کیونکہ اس کی بنیاد نظریہ پاکستان پر رکھی گئی ہے جس کا تصور سر سید احمد خان نے پیش کیا تھا۔ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد نوجوانوں کی ان اصولوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
سرسید یونیورسٹی کے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، چانسلر اکبر علی خان نے بتایا کہ عنقریب سرسید یونیورسٹی میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے پروگرام اور ٹیکنالوجیز متعارف کرائے جائیں گے۔ سرسید یونیورسٹی طلباء کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ انٹرپرینیورشپ کی طرف جائیں جو انہیں اپنے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کو موقع فراہم کرتی ہے۔وہ اپنی کاروباری مصروفیات کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی اور تبدیلی میں بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
چانسلر اکبر علی خان نے اپنے والد انجینئر محمد ذاکر علی خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محمد ذاکر علی خان نے واٹر بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے شہر کے انفرااسٹرکچر کوڈیولپ کرنے اور کراچی کی ترقی میں نمایاں اور اہم کردار ادا کیا۔


