لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم و تحریک صراط مستقیم کے زیر اہتمام مرکز صراط مستقیم میں جامعہ جلالیہ رضویہ مظہر الاسلام اور دیگر برانچز کے نئے تعلیمی سال کے سلسلہ میں اجتماع ”بسم اللہ شریف“ کا انعقاد کیا گیا۔ اجتماع کی صدارت حضرت پیر سید محمد عارف شاہ بخاری جلالی نے کی۔ تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے ’بسم اللہ شریف“ پڑھائی اور بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: علوم اسلامیہ کی درس و تدریس نبوی مشن ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ تعلیم حاصل کر کے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ الحاد سمیت دیگر فتنوں کے تدارک کے لیے راسخ العلم اور راسخ العقیدہ علماء کی ضرورت ہے۔ نظریاتی محاذوں پر شکوک و شبہات کی گولہ باری کرنے والوں کی تعداد زیادہ اور دفاع کرنے والوں کی تعداد نسبتاً تھوڑی ہے۔ اس لیے بہت جلد نئے علماء، سکالرز اور مفکرین کی تیاری ضروری ہے۔ اس لیے مدارس دینیہ کو توسیع دینا اور نئے مدارس قائم کرنا ناگزیر ہے۔ علم دین وراثتِ نبوی ہے اور اس کے حصول کے لیے گھر چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں جا کر پڑھنے والے واپس لوٹنے تک راہِ جہاد میں ہوتے ہیں۔ علوم دینیہ اور دنیاوی علوم میں یہ بنیادی فرق ہے کہ دنیاوی علوم عموماً دنیا کے لیے ہی پڑھے جاتے ہیں مگر یہ کہ ان کو غلبہ اسلام کے لیے استعمال کریں۔ مگر دینی علوم احیائے دین، غلبہ اسلام اور رضائے الٰہی کے لیے پڑھے جاتے ہیں۔ علوم دینیہ کو اگر دنیا کے حصول کی نیت سے حاصل کیا جائے تو سارے کا ساراہی برباد ہو جاتا ہے۔ بخاری شریف کی پہلی حدیث اصلاح نیت کا درس دیتی ہے اور نیت کی صحت کو چیک سال میں ایک بار نہیں روزانہ بلکہ ہر گھڑی کرنا ہوتا ہے۔ اجتماع میں شیخ الحدیث مفتی محمد ارشاد احمد جلالی، شیخ الحدیث مفتی محمد زاہد نعمانی، شیخ الحدیث مفتی محمد جاوید اقبال اجمیری سیالوی، شیخ الحدیث مفتی محمد صمصام مجددی، قاری محمد فرمان علی جلالی، علامہ محمد صدیق مصحفی، علامہ محمد فیاض وٹو جلالی، مفتی محمد عرفان جلالی، مفتی محمد حذیفہ جلالی، ڈاکٹر محمد اظہر اللہ جلالی، مفتی محمد ارسلان جلالی، علامہ محمد عبد الغفور چشتی، علامہ محمد عادل جلالی، علامہ محمد احمد جلالی، علامہ نور محمد ثانی جلالی و دیگر نے شرکت کی۔


