حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کوایک خط لکھ کرحیدرآباد میں ڈینگی اورملیریا کےتیزی سےپھیلنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔محمد سلیم میمن نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ حیدرآباد کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں مریض ڈینگی اورملیریا کےتشویشناک کیسزکےساتھ رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ محلوں اور بستیوں میں بے شمار غیر رپورٹ شدہ کیسز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قیمتی جانیں، بشمول بچوں کی جانیں، صرف بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ ہر سال مون سون کے بعد کے مہینے (اگست تا اکتوبر) ڈینگی اور ملیریا کے پھیلاؤ کے لئے سب سے خطرناک سمجھے جاتے ہیں، اس کے باوجود متعلقہ اداروں نے نہ تو بروقت اسپرے مہم شروع کی اور نہ ہی عوام میں آگاہی مہم چلائی۔ اس لاپرواہی کے نتیجے میں آج شہریوں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے، جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے اور صفائی ستھرائی کے فقدان نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔محمد سلیم میمن نے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں روزانہ اسپرے اور فوگنگ کی جائے، حکومت سندھ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تحقیقی و تشخیصی ونگ کو فعال کر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی اور ملیریا کے مفت ٹیسٹ فراہم کیے جائیں، جبکہ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو پابند کیا جائے کہ وہ عوام سے کم سے کم نرخ وصول کریں تاکہ عوام کا معاشی استحصال نہ ہو۔ انہوں نے نکاسی آب کے نظام کی مرمت، گندے پانی کی نکاسی، اور کچرے کے ڈھیروں کے خاتمے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کرنے پر زور دیاہے۔صدر چیمبر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صرف اسپرے مہم کافی نہیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر، مرض کی علامات اور بروقت علاج سے متعلق آگاہ ہوں۔محمد سلیم میمن نے وزیراعلیٰ سندھ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس سنگین صورتحال میں تاخیر اور غفلت کی مکمل انکوائری کی جائے کہ بارشوں کے فوراً بعد اسپرے مہم اور حفاظتی اقدامات کیوں شروع نہیں کیے گئے اور متعلقہ ادارے عوام کی جانیں بچانے میں کیوں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کی آبادی 35 لاکھ سے زیادہ ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی مزید تاخیر ہزاروں زندگیاں خطرے میں ڈال سکتی ہے اور اسپتالوں پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں یقیناً بروقت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے اور غفلت برتنے والے اداروں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔


