تحریک انصاف نے پیپلز کے زخموں پر مرہم رکھ دیا، تحریک عدم اعتماد لانے کی پیشکش

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ تحریک انصاف نے بھی میدان میں قدم رکھ دیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے پیشکش کی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سنجیدہ ہے تو وہ تحریکِ عدم اعتماد لائے، پی ٹی آئی اس کی حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم پیپلز پارٹی کے فرینڈلی فائر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔”

دوسری جانب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نہری پانی سے متعلق ریمارکس پر پیپلز پارٹی کی ناراضی برقرار ہے۔ جمعہ کو بھی پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا، تاہم حکومتی اراکین نے مناکر واپس ایوان میں لایا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ حکومتی ٹیم سے ملاقات کے باوجود حالات نہیں بدلے، “ہمارا پیسہ، ہمارا پانی، ہماری مرضی” جیسے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ ملک سب کا ہے، کسی ایک صوبے کی جاگیر نہیں۔”

ذرائع کے مطابق، راجہ پرویز اشرف نے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایوان میں بیٹھنا ممکن نہیں، جب تک پنجاب حکومت معذرت نہیں کرتی، معاملات درست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سے سرکاری سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

ادھر، مریم نواز کے بیان کے بعد سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایک بار پھر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے جواب میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ،
“پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی ڈیڈ لائن اپنی جیب میں رکھیں، یہاں الیکشن کراچی جیسے بوگس نہیں ہوں گے۔”

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، “میرا پانی، میری مرضی” کا نعرہ ایسے ہی ہے جیسے “مرسو مرسو پانی نہ دیسو” — اگر سندھ حکومت دن رات پنجاب پر تنقید کرے گی تو اتحاد نہیں چل سکتا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان بڑھتی خلیج وفاقی حکومت کے استحکام کے لیے نیا امتحان بن سکتی ہے، جب کہ تحریک انصاف کی پیشکش نے سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں