جیکب آباد میں ایچ پی وی ویکسین کے بعد نوجوان لڑکی کی موت، تحقیقاتی ٹیم تشکیل

جیکب آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ضلع جیکب آباد کے علاقے صدورآباد میں ایچ پی وی ویکسین لگنے کے بعد ایک نوجوان لڑکی کی موت نے تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت کی 6 رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم واقعے کی جانچ کے لیے پہنچ گئی ہے۔

واقعے کے مطابق، سمیرا نامی لڑکی اور اس کی دو بہنوں مسرت اور نسیماں کو گھر پر موجودگی کے دوران ویکسین لگائی گئی۔ ویکسین لگنے کے بعد سمیرا اور نسیماں کی حالت بگڑنے پر انہیں سکھر کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران سمیرا کی موت ہو گئی جبکہ نسیماں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

خاندان کا موقف:
لڑکی کے چچا گل میر کے مطابق، گھر کے مردوں کی غیر موجودگی میں ویکسینیشن ٹیم نے خواتین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ویکسین محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ٹیم آئی تھی، لیکن خاندان نے ویکسین لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

سرکاری موقف:
ای پی آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کمار نے تصدیق کی کہ یہی ویکسین دنیا کے 150 ممالک میں استعمال ہو رہی ہے اور اس طرح کا ردعمل پہلی بار سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

تحقیقات:
ڈی ایچ او ڈاکٹر سراج احمد سہتو کے مطابق، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم واقعے کی تفصیلی جانچ کر رہی ہے اور جلد رپورٹ پیش کرے گی۔ سمیرا کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جا چکا ہے۔

صورت حال پر تشویش کے باوجود، سرکاری حکام نے ویکسین کے عالمی معیارات پر پورا اترنے اور تحقیقات کے مکمل ہونے تک احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں