حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیسکو پریٹ آباد سب ڈویژن میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ایس ڈی او زین گجر پر کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس ڈی او کی مبینہ سرپرستی میں سب ڈویژن میں بجلی چوری کے منظم نیٹ ورک کو فروغ دیا جارہا ہے، جس سے ماہانہ لاکھوں روپے کی غیر قانونی آمدنی حاصل کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لائن اسٹاف ایل ایس داؤد، ایل ایس قمر، ایل ایس شعیب، اے ایل ایم کاشف، اور ان کے پرائیویٹ کارندے بھٹو اور کاشف مبینہ طور پر اس غیر قانونی دھندے میں ملوث ہیں، جنہیں ایس ڈی او زین گجر کی آشیرباد حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق سب ڈویژن کے مضافاتی اور گنجان آباد علاقوں میں بجلی کے “کنڈے” (غیر قانونی کنکشن) عام ہوچکے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گھریلو کنڈے لگانے کے لیے صارفین سے ماہانہ 5000 روپے جبکہ کمرشل کنڈوں کی مد میں 10 سے 15 ہزار روپے ماہانہ تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم مبینہ طور پر متعلقہ عملے کے ذریعے اوپر تک پہنچائی جاتی ہے۔
عوامی حلقوں میں اس معاملے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا اور نیب حکام فوری طور پر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائیں تاکہ بجلی چوری جیسے قومی جرم میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ بجلی چوری نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ عام صارفین پر اضافی بوجھ کا سبب بھی بنتی ہے۔ اگر متعلقہ حکام نے اس مبینہ نیٹ ورک کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی تو یہ کرپشن مزید جڑیں پکڑ سکتی ہے


