چیمبرز،پرائیوٹ سیکٹر کی پالیسی سازی میں شمولیت نا گزیر ہو چکی ہے۔ صدر چیمبر سلیم میمن

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے کہا کہ پاکستان میں غربت بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وسائل کو عوامی خوشحالی میں تبدیل نہیں کیا جا رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں گھرانے اُجاڑ دیے، کھڑی فصلوں اور زرعی زمین کو تباہ کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کی بڑی آبادی غیر رسمی شعبے میں کم اُجرت اور غیر محفوظ ملازمتوں پر گزارہ کر رہی ہے جو خاندانوں کو غربت سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اِس کے ساتھ تعلیم اور ہنر کے فقدان کے باعث نوجوان بہتر روزگار کے مواقع حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ زراعت جو کہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وہ بھی اپنی اصل استعداد کے مطابق عوامی خوشحالی میں کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ کسان فصلیں تو پیدا کرتے ہیں لیکن زرعی چین میں کمزور لنکس، پروسیسنگ کی کمی، اسٹوریج کی سہولتوں کا فقدان اور مارکیٹ تک محدود رسائی کی وجہ سے وہ اپنی محنت کا پورا معاوضہ وصول نہیں کر پاتے۔

اُنہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے فنڈز کا ایک معقول حصہ مثلاً ابتدائی طور پر صرف 5 فیصد پروڈکٹیو پاتھ وے یا گریجویشن طرز کے پائلٹ پروگرامز میں ری ڈائریکٹ کیا جائے۔ جس سے تقریباً 36 اَرب روپے دستیاب ہوسکتے ہیں اس سے ایسے چھوٹے یونٹس قائم ہوسکیں گے جو روزگار پیدا کریں۔ یاد رہے کہ بی آئی ایس پی کی 2025-26 کی ادائیگیاں تقریباً 722 اَرب روپے ہیں، جن کا ایک معمولی حصہ بھی غربت کے پائیدار خاتمے کی طرف موڑنے سے نمایاں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ غربت کم کرنے کے لیے مائیکروفنانس کو صرف قرض تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تربیت اور مارکیٹ تک رسائی کے ساتھ جوڑا جائے۔ بلاسودقرض ماڈلز کی شراکت میں چھوٹے ڈیری، پولٹری، گھریلو فوڈ پروسیسنگ اور خواتین مرکوز انٹرپرائزز کو مالی و تکنیکی مدد دی جائے تاکہ وہ براہِ راست منڈی تک رسائی حاصل کرسکیں۔

اِس کے ساتھ ساتھ دیہی صنعتوں اور لائیوسٹاک کے چھوٹے یونٹس کے لیے سبسڈی یا اینجل فنڈنگ فراہم کی جائے تاکہ گاؤں کی سطح پر مہارت بڑھے، روزگار پیدا ہو اور مقامی ویلیو ایڈنگ کا دائرہ وسیع ہو۔ اِس کے ساتھ ٹیکنیکل کالجز کو نجی سیکٹر کے ساتھ جوڑ کر مارکیٹ ڈیمانڈڈ کورسز متعارف کرائے جائیں اور نوجوانوں کو آئی ٹی اسکلنگ، فری لانسنگ اور انکیوبیشن کے ذریعے شہروں اور دیہات دونوں میں معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔ اِس مقصد کے لیے ٹارگٹنگ، ڈیجیٹل ریکارڈ، باہمی آڈٹ اور آزاد مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ یہ پروگرام کسی سیاسی استعمال کا شکار نہ ہوں۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بی آئی ایس پی کے اندر ایک پائلٹ ریفارم کمیٹی قائم کی جائے جس میں وفاقی و صوبائی نمائندوں کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر، مائیکروفنانس اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے۔ پروگرامز کو سیاسی استعمال سے پاک رکھنے کے لیے ڈیجیٹل شفافیت اور آزاد مانیٹرنگ کا نظام لازم قرار دیا جائے تاکہ ہر ریکارڈ محفوظ رہے۔

صدر چیمبر نے غربت کے خاتمے کے لیے زرعی ویلیو چینز، ڈیری فوکسڈ انکوبیٹرز اور چھوٹے صنعتکاروں کے لیے خصوصی سبسڈی اور قرض اسکیمیں متعارف کرائی جائیں تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ اِس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے TVET اور آئی ٹی اسکلنگ پروگرامز کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس قائم کی جائیں تاکہ دیہی نوجوان بھی آن لائن روزگار اور فری لانسنگ کے ذریعے ملکی معیشت کا حصہ بن سکیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں پچھلی چار دہائیوں سے اداروں میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی بھرتیوں نے اداروں کی کام کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے اَب بہتری ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ حکومت پاکستان کے چیمبرز، اور پرائیویٹ سیکٹر کے قابل لوگوں کو پالیسی و فیصلہ سازی میں شامل کرے اور ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لاکر اداروں کی بہتر بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں