مزار شریف(ایچ آراین ڈبلیو) داعش کے ذیلی گروہ ‘داعش خراسان’ کا ایک اعلیٰ کمانڈر، جو خودکش بمباروں کو پاکستان لانے اور پشاور کوچہ رسالدار سانحے کا مرکزی ملزم تھا، افغانستان کے شہر مزار شریف میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، محمد احسانی نامی یہ کمانڈر نسلی طور پر تاجک تھا اور گروپ کے اہم آپریشنل امور کا ذمہ دار تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف خودکش بمباروں کو تربیت دینے بلکہ انہیں پاکستان میں داخل کرنے کا مرکزی سہولت کار تھا۔
احسانی پر سنگین الزامات:
اسے 2022 میں پیش آنے والے پشاور کوچہ رسالدار کے المناک دھماکے کا مرکزی سہولت کار قرار دیا جاتا ہے، جس میں 62 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔
وہ پاکستان کے خلاف خودکش حملوں کی لڑی میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
حالیہ کارروائیاں:
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز تیز کر چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق:
گزشتہ ماہ ستمبر میں خیبر پختونخوا کے ایک آپریشن میں داعش خراسان کے 3 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جن میں ایک افغان شہری بھی شامل تھا۔
ضلع باجوڑ میں آپریشن “سربکف” جاری ہے، جس میں سیکیورٹی فورسز داعش خراسان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
احسانی کی ہلاکت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔


