دبئی(ایچ آراین ڈبلیو)بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے ایشیا کپ 2025ء کے فائنل میں ممکنہ فتح کی صورت میں چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) محسن نقوی کے ہاتھوں ٹرافی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں محسن نقوی کی شرکت تک سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اے سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تقریب میں مدعو نہ کیا جائے۔
کپتان کے انکار کی وجوہات
بھارتی کپتان کے اس فیصلے کے پس منظر میں محسن نقوی کے ساتھ گذشتہ تعاملات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرافی کی رونمائی کی تقریب کے دوران سوریا کمار یادیو نے محسن نقوی اور پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے مصافحہ کیا تھا، جس کے بعد سے وہ بھارتی میڈیا اور عوام کی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں ‘غدار’ تک قرار دیا گیا اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا ۔
بھارتی عوام اور میڈیا کا ردعمل
سوریا کمار یادیو کے محسن نقوی سے ہاتھ ملانے کے واقعے کو بھارت میں شدید غصے اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی صارفین نے سوشل میڈیا پر انہیں ‘بے شرم’ اور ‘غدار’ جیسے القابات سے نوازا۔ ایک صارف نے لکھا: “محسن نقوی کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، انہوں نے آپریشن سندور کے دوران بھارت کو تباہ کرنے کا کہا تھا” ۔ ایک اور صارف نے اس عمل کو ‘شرمناک’ قرار دیتے ہوئے کہا: “یہ ہمارے معصوم لوگوں کو مارتے ہیں اور یہاں ہم ان سے ہاتھ ملا رہے ہیں” ۔
محسن نقوی کی پوزیشن اور ردعمل
محسن نقوی نہ صرف اے سی سی کے صدر ہیں بلکہ وہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں۔ انہوں نے پاک بھارت میچ کے بعد بھارتی ٹیم کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا، جب بھارتی کھلاڑیوں نے میچ کے اختتام پر پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہیں کیا تھا۔ نقوی نے اس عمل کو کھیل کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ “کھیل میں سیاست کو گھسیٹنا اس کی اصل روح کے منافی ہے” ۔
ایشین کرکٹ کونسل کی ممکنہ ردعمل
اب تک ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے بھارتی کپتان کے مطالبے یا انکار پر کوئی رسمی موقف جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، یہ معاملہ اے سی سی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے درمیان غیر جانبدار رہتے ہوئے ٹورنامنٹ کے اختتام کو منظم طریقے سے نمٹانا ہے۔
مستقبل پر ممکنہ اثرات
بھارتی کپتان کا یہ قدم نہ صرف اس ٹورنامنٹ بلکہ مستقبل کے بین الاقوامی کرکٹ ایونٹس پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے میدان میں بھی سیاسی اور diplomatic تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اے سی سی دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گی، تاکہ کھیل کی روح برقرار رہ سکے ۔


