ڈیرہ مرادجمالی (ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نوابزادہ خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں سخت معاشی اصلاحات لاکر ملکی نظام مستحکم کر رہی ہے تمام اداروں میں غیر ضروری اخراجات ختم کرکے ملکی معشیت کو بہتر کر رہی ہے مضبوط معیشت سے ہی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بجلی کی ریلیف ملکی استحکام کی جانب ایک قدم ہے امن و امان کی بہتری اور غیر ضروری اخراجات کاخاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے بلوچستان میں قبائلی جھگڑے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان تنازعات کے خاتمے سے ہی بلوچستان میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہےان خیالات کا اظہار انہوں نے واپڈا ریسٹ ہاوس میں میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سید صفدر حسین شاہ،سید ذوالفقار شاہ،میر علی حسن منجھو رانا خان مغیری حاجی محمد عارف ابڑو کیسکو وریام منجھو الہی بخش ابڑو سمیت دیگر بھی موجود تھے نوابزادہ خالد خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان وسیع و عریض صوبہ ہے موجودہ وفاقی حکومت صوبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے وفاق کے محدود وسائل کے باوجود صوبے کی پسماندگی کو فوکس کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تمام اداروں میں سخت معاشی اصلاحات نافذ کر رہی ہے جس سے تمام اداروں سے غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے جس سے کرپشن بھی کنٹرول ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ملکی دستیاب وسائل کو بتوکار لاکر ملکی ترقی کےلئے موثر منصوبہ بندی کرکے نظام حکومت کو بہتر کر رہی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں خالد خان مگسی نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح جدید ٹیکنالوجی سے استفعادہ حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں ہماری منسٹری ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ملک میں زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو فروغ دیکر ملک کو جدید راہ پر گامزن کریں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قبائلی تنازعات ہیں ان تنازعات کے حل کےلئے ہم سب کو اپن کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مثالی بن جائے اس سلسلے میں آج کا میرا دورہ قبائلی تنازعات کے خاتمے کےلئے تھا جس میں ہمیں کامیابی ملی ہے تنازعات کے خاتمے سے برادر اقوام میں بھائی چارگی کو فروغ دیکر دشمنی اور نفرت کو ہمیشہ کے لئے ہی خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔


