نواب شاہ(ایچ آراین ڈبلیو) ارشد علی ولد اکبر علی راجپوت بھٹی، جو کہ سانگھڑ روڈ پر اے ایس ٹاؤن نزد خان پٹرول پمپ کے قریب کاروبار کرتے ہیں، نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھتہ مافیا اور پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک گودام، تین دکانیں اور دو پلاٹ ہیں جہاں ہارڈ ویئر، ماربل کی مشینری اور سامان موجود ہے۔ گزشتہ دنوں چند افراد بھتہ وصولی کے بہانے ان کے گودام پر آتے رہے۔ ماہ اگست کے آخر میں چار ملزمان — اعظم شیخ، کامران عرف کامی، آصف شیخ اور دو دیگر افراد — مسلح ہو کر ان کے گودام میں داخل ہوئے، اسلحہ دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ یا تو “راضی کرو یا کاروبار چھوڑ دو”۔ارشد علی کے مطابق انہوں نے واقعے کی اطلاع تھانے میں دی مگر محض تسلی دے کر ٹال دیا گیا۔ بعد ازاں ملزمان نے گودام اور دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹ لیا اور مسلح افراد کو قبضے پر بٹھا دیا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا، حتیٰ کہ ایس ایچ او کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر درخواست کو مؤخر کیا گیا۔کاروباری شخصیت نے الزام لگایا کہ “نواب شاہ میں بھتہ مافیا اور پولیس کی سرپرستی کے باعث کاروباری افراد کا جینا محال کر دیا گیا ہے۔” انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری، ضلعی صدر سالم زرداری، ڈی آئی جی، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہید بے نظیر آباد سے اپیل کی کہ بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کی جائے، ان کا قبضہ ختم کروا کر لوٹا گیا سامان واپس دلوایا جائے اور ان و ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
—————————————-
ایچ آراین ڈبلیو کی اپیل:
ہم عوام تک غیر جانبدار اور سچی خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر آپ بھی معیاری صحافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، تو براہ کرم ہمارے ساتھ جڑیں۔ آپ کا عطیہ ہمیں حقائق کی روشنی پھیلانے میں مدد دے گا۔
سچائی کی تحریک میں شامل ہوں۔ عطیہ دیں۔
ویب سائٹ:hrnww.com/donate


